جمعہ 2 اکتوبر 2026 - 14:15
عالمِ اسلام کو اتحاد، خودمختاری اور اپنے بل بوتے پر مضبوط ہونے کی ضرورت ہے: مولانا شیخ محمد یاسین حسین ڈار

حوزہ/ جامع مسجد امام رضا گنڈ حسی بٹ میں نمازِ جمعہ کے خطبے میں مولانا شیخ محمد یاسین حسین ڈار نے تقویٰ، خبر کی تحقیق، صراط، اخلاص، اخلاقِ حسنہ، ذکرِ خدا، صبر، نکاح کی حرمت و حیا اور حالاتِ حاضرہ سمیت مختلف اہم موضوعات پر تفصیلی گفتگو کی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، گنڈ حسی بٹ/ جامع مسجد امام رضا گنڈ حسی بٹ میں نمازِ جمعہ کی امامت و خطابت مولانا شیخ محمد یاسین حسین ڈار نے انجام دی۔ خطبۂ جمعہ میں انہوں نے تقویٰ، خبر کی تحقیق، صراط، اخلاص، حسنِ اخلاق، ذکرِ خدا، صبر، حالاتِ حاضرہ اور خاندانی زندگی میں نکاح و حیا کی اہمیت سمیت مختلف موضوعات پر گفتگو کی۔

خبر کی تحقیق تقویٰ کا اہم تقاضا ہے

مولانا شیخ محمد یاسین حسین ڈار نے اپنے خطاب میں سورۂ حجرات کی آیت 6 کو محورِ گفتگو بناتے ہوئے ارشاد فرمایا: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَىٰ مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ﴾

انہوں نے فرمایا کہ تقویٰ کا تقاضا ہے کہ انسان پیغمبرِ اکرمؐ اور آلِ پیغمبرؑ کی تعلیمات پر عمل کرے اور کسی فاسق یا منافق کی خبر کو بغیر تحقیق کے قبول نہ کرے۔ غلط خبر کی بنیاد پر کیا گیا کوئی بھی اقدام قوم و ملت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے اور بعد میں پشیمانی کا باعث بن سکتا ہے۔

انہوں نے مخبرِ صادق کے مفہوم کی وضاحت کرتے ہوئے انبیائے الٰہی، اوصیائے الٰہی، بالخصوص رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ائمۂ معصومین علیہم السلام کا ذکر کیا اور فرمایا کہ ان کی فراہم کردہ دینی و الٰہی رہنمائی پر اعتماد انسان کی دینی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے۔

صراط آخرت کے لیے دنیا میں تیاری ضروری ہے

خطیبِ جمعہ نے صراط کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ مخبرِ صادق نے انسان کو آگاہ کیا ہے کہ ہر نفس کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے اور موت کے بعد صراط سے گزرنا ہوگا۔ انہوں نے صراط سے متعلق مختلف روایتی تعبیرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس مرحلے سے گزرنا انسان کے اعمال سے وابستہ ہے، اس لیے آخرت کی کامیابی کے لیے دنیا ہی میں تیاری ضروری ہے۔

مولانا شیخ محمد یاسین حسین ڈار نے صراط کو عبور کرنے میں معاون چار بنیادی امور بیان کرتے ہوئے کہا کہ انسان کو اپنی زندگی میں اخلاص، حسنِ اخلاق، ذکرِ خدا اور صبر کو اختیار کرنا چاہیے۔

اخلاص: انہوں نے فرمایا کہ ہر عمل سے پہلے، عمل کے دوران اور عمل کے بعد اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص ضروری ہے۔ نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، نذر و نیاز اور دیگر عبادات خالصتاً اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے انجام دی جانی چاہییں۔

حسنِ اخلاق: انہوں نے فرمایا کہ انبیاء و اوصیاء علیہم السلام کی تعلیمات میں حسنِ اخلاق کو بنیادی مقام حاصل ہے۔ انسان کی گفتگو، رویّہ اور کردار اس کی باطنی کیفیت کی عکاسی کرتے ہیں، اس لیے مؤمن کے کردار میں اخلاق اور شائستگی نمایاں ہونی چاہیے۔

ذکرِ خدا: خطیبِ جمعہ نے نماز اور تلاوتِ قرآن کو اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط کرنے کا اہم ذریعہ قرار دیا۔ انہوں نے فرمایا کہ قرآن کے ساتھ انس اور کثرتِ تلاوت انسان کے اعمال، کردار اور طرزِ زندگی پر مثبت اثرات مرتب کرتے ہیں۔

صبر: انہوں نے فرمایا کہ اللہ کی راہ میں پیش آنے والی مشکلات، آزمائشوں اور اذیتوں کو تحمل اور استقامت کے ساتھ برداشت کرنا ضروری ہے۔ صبر انسان کو مشکلات کا سامنا کرنے اور صراطِ آخرت سے کامیابی کے ساتھ گزرنے میں مدد دیتا ہے۔

عالمِ اسلام کو اتحاد اور خودمختاری کی ضرورت ہے

حالاتِ حاضرہ پر گفتگو کرتے ہوئے مولانا شیخ محمد یاسین حسین ڈار نے امریکہ اور اسرائیل پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ ان کے بقول عالمِ عرب تک جھوٹی اور من گھڑت خبریں پہنچائی جاتی ہیں، اس لیے مسلم ممالک کو حالات کا جائزہ لیتے ہوئے حقائق کی تحقیق پر توجہ دینی چاہیے۔

انہوں نے شہد رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کے پیغام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عرب ممالک کو اپنی خودمختاری، باہمی اتحاد اور باہمی اعتماد کو مضبوط کرنے کے ساتھ اپنے بل بوتے پر مضبوط ہونے کی طرف توجہ دینی چاہیے۔

عراق کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے حشد الشعبی کو غیر مسلح کرنے کے ممکنہ نتائج پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ایسا اقدام داعش کے دوبارہ سر اٹھانے کا خطرہ پیدا کر سکتا ہے۔ انہوں نے عراق پر زور دیا کہ وہ اپنی دفاعی اور مقاومتی قوت کو مضبوط رکھے۔

کشمیر کے بارے میں افواہوں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے

وادیٔ کشمیر کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے مولانا شیخ محمد یاسین حسین ڈار نے کہا کہ اگر وادی کے حالات یا اس کی حیثیت سے متعلق جھوٹی اور من گھڑت افواہیں پھیلائی جائیں تو عوام اور اربابِ اقتدار کو ہوشیار رہنا چاہیے۔

انہوں نے بالخصوص سیاست دانوں کو احتیاط سے کام لینے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ کوئی ایسا اقدام نہیں کیا جانا چاہیے جس سے وادی مزید مشکلات سے دوچار ہو۔ انہوں نے اتحاد و اتفاق برقرار رکھنے پر بھی زور دیا۔

نکاح میں تقدس اور حیا کو ملحوظ رکھا جائے

مولانا شیخ محمد یاسین حسین ڈار نے شادی بیاہ اور نکاح کی اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے اسے ایک مقدس عمل قرار دیا۔ انہوں نے فرمایا کہ مؤمنین کو شادی بیاہ کی تقریبات میں تقدس، حیا اور اسلامی اقدار کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ مضبوط اور معنوی خاندانی زندگی کے لیے تقدس، حیا اور اسلامی اقدار بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔ ان اقدار کے کمزور پڑنے سے خاندان کی معنوی بنیادیں بھی متاثر ہوتی ہیں۔

خطاب کے اختتام پر مولانا شیخ محمد یاسین حسین ڈار نے عالمِ اسلام، مسلمانوں اور دیگر اقوام و ریاستوں کی کامیابی، اتحاد و اتفاق اور سربلندی کے لیے دعا فرمائی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha